حضرت ابو ہریرہ رض سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کرے
اور جب وہ اسکی مدد و اعانت کا محتاج ہو تو اسکی مدد کرے
اور اسکو حقیر نہ سمجھے اور نہ اسکے ساتھ حقارت کا برتاؤ کرے کیا خبر کہ اسکے دل میں تقویٰ ہو جس کی وجہ سے وہ اللّه کہ نزدیک و مکرّم ہو
پھر اپنے تین مرتبہ اپنے سینہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے
ہوسکتا ہے کہ تم کسی کو ظاہری حال سے معمولی آدمی سمجھتے ہو اور وہ اپنے تقویٰ کی وجہ سے اللّه کے نزدیک محترم ہو اسی لئے کسی مسلمان بھائی کو حقیر نہ سمجھو
آدمی کہ برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اسکے ساتھ حقارت سے پیش آے
مسلمان کی ہر چیز دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہے
اسکا خون اسکا مال اسکی آبرو
اس لئے نہ حق اسکا خون گرانا اسکا مال لینا اسکی آبرو ریزی کرنا یہ سب حرام ہے
رسول اللّه صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علامات قیامت میں یہ بات بھی ہے کہ معمولی طبقے کہ لوگ بڑے بڑے مکان اور اونچی اونچی حویلیاں بنا کر ان پر فخر کرینگے
