حکایت

حکایت ۔۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک تاجر دور پار کے دیس اپنا سامان تجارت لے کر گیا۔ پردیس کے قانون سے بے خبری کے باعث بعض قانونی مشکلات میں پھنس گیا اور اس کا سارا مال بحق سرکار ضبط ہو گیا۔ بیچارہ پردیسی تاجر برباد ہو گیا اور سر پر خاک ڈال کر دربدر فریاد کناں ہونے لگا۔

کسی نے ایک قاضی کی طرف رہنمائی فرمائی کہ یوں رونے سے کچھ نہ ہوگا، فلاں قاضی کی عدالت میں فریاد کرو۔ اللہ آسانیاں فرمائے گا۔

تاجر مذکورہ قاضی صاحب کی خدمت میں عارض ہوا۔ قاضی صاحب نے فریاد سنی اور فوراً احکامات جاری فرمائے۔ آناً فاناً معاملہ کی شنوائی ہوئی، فیصلہ تاجر کے حق میں ہوا اور اس کا سارا سامان سرکار سے حاصل کر کے تاجر کو واپس کر دیا گیا۔

لمحوں میں مالدار تاجر سے خانماں برباد ہو جانے والا تاجر ایک بار پھر مالدار تاجر بن کر خوشی سے پھولے نہ سماتا تھا۔ اس نے سوچا کہ قاضی صاحب نے میری اتنی مدد کی، میرا کروڑوں کا ضبط شدہ مال واپس دلوایا، کچھ خدمت ہونی چاہئیے۔

تاجر نے اچھے اچھے تحائف لیے، قاضی صاحب کی خدمت میں جا پہنچا اور تحائف پیش کیے۔

قاضی صاحب نے پوچھا کہ یہ کیا؟ تو تاجر نے ماجرا کہہ سنایا۔

قاضی صاحب نے تحائف واپس کرتے ہوئے پوچھا، “ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ کیا تمہارے دیس میں ہوتا ہے؟”

تاجر نے اقرار کیا تو قاضی صاحب نے استغفار پڑھتے ہوئے پوچھا، “اگر ایسا ہے تو پھر تمہارے دیس میں بارشیں نہیں ہوتی ہوں گی۔”

تاجر بولا، “نہیں جناب، بارشیں بھی ہوتی ہیں۔”

قاضی صاحب کچھ دیر داڑھی کھجا کر سوچتے رہے اور پھر بولے، ” اگر جائز کام کے لیے بھی تمہارے ہاں رشوت اتنی عام ہے کہ اسے برا ہی نہیں سمجھا جاتا اور تم کہتے ہو کہ پھر بھی بارشیں ہوتی ہیں تو پھر میرا علم کہتا ہے کہ تمہاری بارشوں میں خیر ممکن نہیں۔ مطلب یہ کہ کبھی تو سیلاب آ کر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہوں گے، جب بارشوں کی ضرورت ہوگی، تب خشک سالی ہوگی، جب فصلیں پک کر تیار ہوں گی تو بارشیں برس کر فصلیں برباد کرتی ہوں گی، جب پھلدار درختوں کو پھول لگتے ہوں گے تو اولے برستے ہوں گے جس سے پھل ضائع ہوتے ہوں گے۔”

تاجر بولا، “جی محترم قاضی صاحب، ایسا تو اکثر ہوتا ہے۔”

قاضی صاحب بولے، “جس زمین پر گناہ اتنا بڑھ جائے کہ اسے گناہ ہی نہ سمجھا جاتا ہو، وہاں خیر باقی نہیں رہتی۔ اور سب سے برا عذاب یہ ہے کہ لوگ اس کے احساس تک سے عاری ہو جاتے ہیں۔”

حکایت مذکورہ بالا اس وقت ملک خداداد پر کاملاً صادق آتی ہے۔ نہ انصاف ہے، نہ ایمانداری۔ نہ اپنے فرائض کی ادائیگی اور ذمے داریوں میں خلوص۔ حتیٰ کہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں رشوت حق سمجھ کر وصول کی جاتی ہے۔

اور پھر عذاب بھی عین حکایت کی طرح نازل ہوتے ہیں۔ جب بارشوں ک ضرورت ہوتی ہے تو خشک سالی ہوتی ہے۔ جب فصلیں تیار ہوتی ہیں تو طوفان آتے ہیں۔ بارش برستی ہے تو سیلاب آتے ہیں اور لوگ بہہ جاتے ہیں۔

Leave a Comment