موت کی یاد

موت کی یاد

ایک طویل حدیث میں حضرت ابو سعید رض سے مروی ہے کہ رسول ﷺ ایک دن گھر سے مسجد میں نماز کے لئے تشریف لاۓ تو آپ نے لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ گویا وہ وہاں مسجد میں کھل کھلا کر ہنس رہے ہیں اور یہ علامت تھی غفلت کی زیادتی کی اس لئے حضور ﷺ نے ان کی اس حالت کی اصلاح کے لئے ارشاد فرمایا

میں تمہیں بتاتا ہو کہ اگر تم لوگ لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو زیادہ یاد کیا کرو وہ تمہیں اس غفلت میں  مبتلا نہ ہونے دے لہذا موت کو زیادہ یاد کیا کرو 

حضرت انس رض سے روایت ہے کہ رسول ﷺ ایک جوان کے پاس اسکے آخری وقت میں جبکہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو رہا رہا تھا تشریف لے گۓ اور آپ نے ارشاد فرمایا

کہ تم اس وقت اپنے آپ کو کس حال میں پاتے ہو اس نے عرض کیا یا رسول ﷺ میرا یہ حال ہے کہ میں اللہ سے رحمت کی امید بھی رکھتا ہوں اور اس کے سات مجھے اپنے گناہوں کی سزا اور عذاب کا ڈر بھی ہے

آپ نے فرمایا جس جس دل میں امید و خوف کی یہ دونوں کیفیتیں ایسے عالم میں یعنی موت کے وقت میں جمع ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ ضرور عطاء فرما دیں گے جس کی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے اور اس عذاب سے اس کو ضرور محفوظ رکھیں گے جس کا اس کے دل میں ڈر اور خوف ہے

Leave a Comment