صلہ رحمی
حضرت ابو ہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا لوگو تمہیں اپنے حسب نسب کے متعلق اس قدر علم حاصل کرنا ضروری ہے جس کی وجہ سے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکو
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول ﷺ میرے چند قرابت دار ہیں اور عجیب طبیعت کے مالک ہیں میں انکے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع کرتے ہیں میں ان سے نیکی کرتا ہوں وہ مجھ سے جہالت کرتے ہیں رسول ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر واقعی میں تو ایسا ہی ہے جیسا تو کہتا ہے تو گویا تو انکے منہ میں گرم گرم بھوبھل ڈالتا ہے یعنی تیری عطاء انکے حق میں حرام ہے اور انکے شکم میں آگ کا حکم رکھتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان پر تیری مدد کرتا رہیگا جب تک تو اس صفت پر قائم رہے گا
رسول ﷺ نے فرمایا ہر جمعرات کی شام جمعہ کی رات کو لوگوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں پاس اللہ تعالیٰ رشتہ توڑنے والے کے اعمال قبول نہیں کرتا
رسول ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر وہ کسی شخص میں ہوں تو اللہ تعالیٰ اسکا حساب سہولت و آسانی سے لےگا اور اپنی رحمت سے جنّت میں داخل کریگا پوچھا گیا یا رسول ﷺ وہ کیا ہیں آپ نے فرمایا جو تم کو محروم کرے اسکو دو جو تم سے رشتہ توڑے اس سے ناتہ جوڑو جو تم پر ظلم کرے اسکو معاف کردو جب تو یہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو جنّت میں لے جاۓ گا
رسول ﷺ کے ارشادات ہیں کہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کرنا عمر کو دراز کرتا ہے اور چھپا کر خیرات کرنا خدا کے غصّے کو کم کرتا ہے
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا نام اللّه ہے میرا نام رحمٰن ہے میں نے اپنے نام کو رحم سے مشتق کیا ہے جو اسکو ملاۓ گا میں اسکو ملآؤنگا اور قطع رحمی کریگا میں اسکو قطع کرونگا
شعبان کی پندر ہویں شب میں تقریبا سب لوگ آزاد کر دیے جاتے ہیں یعنی انکے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں مگر قاطع رحم ماں باپ کا نا فرمان اور شراب کا عادی ان تینوں کی اس رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی
