سخاوت

رسول ﷺ کی سخاوت

 

حضرت ابن عباس رض فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ اول تو تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے کوئی بھی آپ کی سخاوت کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا کہ خود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عطاؤں میں بادشاہوں کو شرمندہ کر دیتے تھے

ایک دفعہ نہایت ضرورت کی حالت میں ایک عورت نے چادر پیش کی اور سخت ضرورت کی حالت میں آپ نے پہنی اس وقت ایک شخص نے مانگ لی آپ نے اسے دے دی

آپ قرض لے کر ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا فرماتے تھے اور قرض خواہ کے سخت تقاضے کے وقت اگر کہیں سے کچھ آگیا اور اداۓ قرض کے بعد بچ گیا تو جب تک وہ تقسیم نہ ہو جاۓ گھر میں تشریف نہیں لے جاتے تھے

بلخصوص رمضان المبارک میں آخر تک بہت فیاض رہتے کہ آپ کی گیارہ ماہ کی سخاوت اس ماہ کی سخاوت کے برابر نہ ہوتی

اور اس مہینہ میں جب بھی حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لاتے اور آپکو کلام اللہ سناتے اس وقت آپ بھلائی اور نفع رسانی میں تیز بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے

 ترمذی کی حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول ﷺ کے پاس نوے

ہزاردرہم کہیں سے آے آپ نے ایک بورے پر ڈلوادۓ اور وہیں پڑے پڑے سب تقسیم کرا دیے

 ختم ہونے کے بعد ایک سائل آیا آپ نے فرمایا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا

تم میرے نام پر کسی سے قرض لے لو جب میرے پاس ہونگے میں اس کو دے دونگا

Leave a Comment