ہجرت

ہجرت

حضرت عمر بن خطاب رض سے روایت ہے کہ میں نے رسول ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ انسانی اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسکی نیت ہی کہ مطابق پھل ملتا ہے تو جس شخص نے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کی تو اسکی ہجرت در حقیقت اللّه اور اسکے رسول کی طرف ہوئی اور بیشک وہ اللّه اور رسول کا سچا مہاجر ہے اور اس کی ہجرت کا اس کو اجر ملیگا

اور جو کسی دنیوی غرض یا کسی عورت سے نکاح کی خاطر مہاجر بنا تو اسکی ہجرت اللہ و رسول کے لئے نہ ہوگی

خود رسول نے دین اسلام کی خاطر ہجرت کی ہے اپنے آبائی گاؤں مکّہ مکرمہ کو خیر آباد کہا ہے اللہ کی خاطر جب کفار آپ کو شہید کرنے کی غرض سے آپکے گھر کے باہر جمع ہو گۓ سو قبیلوں کے نو جوان رسول ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے آپکے گھر کہ باہر کھڑے ہو گنے تو اللہ پاک نے آپ کو ہجرت کا حکم دیا آپ مکہ سے نکلے ہیں تین دن غار ثور میں رہنے کہ بعد پھر آپ مدینہ منورہ گنے ہیں

جب آپ نے اللہ کی خاطر ہجرت کی تو اللہ تعالیٰ نے پھر آپ پر بہت بڑے بڑے انعام کئے ہیں پھر فتوحات اسلام ہوئی ہیں آپ نے کتنے غزوات لڑے ہیں اور پھر وہ دن بھی آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ المکرمہ آپکو فتح کر کے دیا جب مکہ فتح ہوا تو مدینہ والے صحابہ پریشان ہوے کہ کہی آپ واپس مکہ نہ چلے جایں تو آپنے فرمایا تم نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا اب میرا جینا اور مرنا تمہارے ساتھ ہے

Leave a Comment