پڑوسی کے حقوق
حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا مجھے اس پرور دگار کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہے جب تک کہ وہ اپنے ہمساے کے لئے وہی بھلائی نہ چاہے جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے
حضرت معاویہ بن حیدر رض فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہمسایہ کا یہ حق ہے کہ وہ بیمار ہو جاۓ تو اس کی بیمار پرسی کی جاۓ اگر وہ مر جاۓ تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاۓ اگر وہ ادھار مانگے تو اس کو قرض دے اگر وہ ننگا ہے تو اس کو کپڑے پہناۓ اگر کوئی خوشی اس کو حاصل ہو تو اس کو مبارک باد دے اگر کوئی مصیبت اس پر طاری ہو تو اس کو تسلی دے اور اپنے مکان کو اس کے مکان سے اونچا نہ کرے تاکہ وہ ہوا سے محروم نہ رہے اور اپنے چولہے کے دھویں سے اس کو ایذا نہ پوھنچاۓ
رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان بندہ مرتا ہے اس کے قریب تر پڑوسیوں میں سے تین آدمی اس پر خیر کی گواہی دیتے ہوں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے بندوں کی شہادت ان کے علم کے مطابق قبول کرلی اور جو کچھ میں جانتا ہوں اس کو میں نے بخش دیا
