عثمانی سلاطین…صحابہ اکرام کی ناموس کے محافظ!

عثمانی سلاطین…صحابہ اکرام کی ناموس کے محافظ!

تاریخ کی جستجو رکھنے والے عیزی دوستو، کیا آپ جانتے ہیں کہ،صفویوں اور عثمانیوں کے درمیان صدیوں تک جاری رہنے والی جنگیں صرف سیاسی ٹکراؤ نہیں تھیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک عقیدے کا فرق بھی موجود تھا۔ اسی لیے عثمانی سلاطین جب بھی صفویوں کے ساتھ امن معاہدہ کرتے تو ایک شرط لازمی شامل ہوتی:

“امہاتُ المؤمنین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت اور حرمت کو ہرگز مجروح نہیں کیا جائے گا، ورنہ معاہدہ باطل سمجھا جائے گا۔”

یہ شرط عثمانیوں کے لیے صرف ایک “سیاسی نکتہ” نہیں تھی، بلکہ ان کے دلوں میں اہلِ بیت اور صحابہ کرام کے احترام کا عملی ثبوت تھی۔

 سلطنتِ عثمانیہ ہمیشہ اہلِ سنت والجماعت کے نظریہ پر قائم رہی،جس میں اہلِ بیت کی محبت اور صحابہ کی عزت دونوں لازم ہیں۔

خیر الدین باربروسا (خیرالدین پاشا)

بحیرہ روم کے عظیم ترین مسلم مجاہد، جنہیں یورپ آج بھی “بحرِ روم کا شیر” کہتا ہے۔ ان کی قیادت میں عثمانی بحریہ نے اسپین، اطالوی ریاستوں اور صلیبی اتحادیوں کو بارہا شکست دی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ باربروسا نے اپنی جنگی پرچم کے چاروں کونوں پر خلفائے راشدین کے نام لکھوائے تھے۔

 یہ ان کی عقیدت، توکل اور اُن روحانی نسبت کا اظہار تھا جسے وہ اپنے جہاد کی اصل طاقت سمجھتے تھے۔

فاتح وہ سلطان ہے جسے دنیا آج بھی “Conqueror of Constantinople” کے نام سے جانتی ہے۔ اس نے 21 سال کی عمر میں بازنطینی سلطنت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے اسلام کی عظیم پیشگوئی پوری کی۔

آیا صوفیہ کی فتح کے بعد، جب اسے مسجد میں تبدیل کیا گیا تو فاتح نے اس کے چار بڑے ستونوں پر درج کروایا:

اللہ ﷻ – محمد ﷺ – ابوبکر – عمر – عثمان – علی – حسن – حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین

یہ نقش عثمانی عقیدے کا اعلان تھے کہ اسلام اہلِ بیت کی محبت اور صحابہ کی عظمت دونوں سے مکمل ہوتا ہے۔

یورپی مؤرخین مانتے ہیں کہ عثمانی سلاطین نے نہ صرف اسلامی دنیا کو مضبوط بنایا بلکہ عقیدے، احترامِ صحابہ، اور محبتِ اہلِ بیت کو برصغیر، عرب دنیا، اناضول، بالکان اور افریقہ تک پھیلایا۔

اسی لیے انہیں تاریخ میں “حماة العقیدہ” عقیدے کے محافظ کہا جاتا ہے 

Leave a Comment