تیمور لنگ مختصر تاریخ
سمرقند کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں “کش” میں رات کے آخری پہر خاموشی اتری ہوئی تھی۔ آسمان پر ستارے وہی تھے جو ہزاروں سال سے اس زمین کو دیکھتے آرہے تھے، مگر اُس رات کچھ بدل رہا تھا۔ 9 اپریل 1336 کو ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جو آنے والے زمانوں میں نہ صرف ماوراءالنہر بلکہ پورے ایشیا کی تقدیر بدلنے والا تھا۔ اس کا نام تھا: تیمور۔
بچپن سے ہی تیمور کے اندر ایک عجیب بے چینی تھی… وہ دوسرے بچوں کی طرح کھیلتا تو تھا لیکن اُس کے کھیل بھی جنگ کے کھیل ہوتے۔ لکڑی کی تلوار، مٹی کا گھوڑا، اور ریت سے بنی وہ چھوٹی دیواریں جنہیں وہ گراتا اور دوبارہ کھڑی کرتا۔ اس کے دل میں ایک ہی خواہش تھی: وہ کچھ عظیم کرے۔ ایسی عظمت کہ صدیوں بعد بھی دنیا اسے یاد کرے۔
تیمور کا خاندان ترک-منگول نسل سے تھا۔ یعنی چنگیز خان کی قوم کی شاخ، مگر طاقتور نہیں— ایک عام سی شاخ، جو کبھی چنگیز کی فتوحات کے سائے میں تھی مگر اب گمنامی میں ڈوب چکی تھی۔ لیکن تیمور اپنی رگوں میں چنگیزی خون کو پھر سے جگانا چاہتا تھا۔ وہ اپنے بچپن میں اکثر اپنی ماں سے پوچھتا:
“چنگیز خان واقعی اتنا بڑا بادشاہ تھا؟”
اور وہ جواب دیتی: “ہاں، مگر اُس کی راہ اب مٹ چکی ہے… کوئی اسے دوبارہ پورا نہیں کر سکتا۔”
اور تیمور دل ہی دل میں کہتا: “میں کروں گا۔”
جوانی میں قدم رکھتے ہی اس کی زندگی یکدم بدل گئی۔ 20 سال کی عمر میں ایک لڑائی کے دوران اسے تیر لگا— ایک تیر نے اس کے ہاتھ کو ہمیشہ کے لیے کمزور کر دیا، دوسرا تیر اس کی ٹانگ میں لگا… یہی وہ زخم تھا جس نے دنیا کو بعد میں اسے “تیمور لنگ” کہنے پر مجبور کیا۔ لیکن اس کے دشمن نہیں جانتے تھے کہ جسم کا لنگڑا ہونا دل کو نہیں توڑتا۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں، مگر دل میں خواہش جتنی گہری ہو وہ اتنی ہی آگ بن کر بھڑکتی ہے۔
تیمور نے اپنے اردگرد کے قبائل کو اکھٹا کرنا شروع کیا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک آدمی کبھی سلطنت نہیں بناتا— لیکن اگر اُس کے ساتھ سو لوگ ہوں، تو وہ ایک شہر لے سکتا ہے، اگر ہزار ہوں تو وہ ایک ملک لے سکتا ہے، اور اگر لاکھ ہوں تو وہ دنیا پر قدم رکھ سکتا ہے۔ اُس نے پہلے اپنی ذہانت دکھائی، پھر اپنی تلوار۔ جہاں بات سے کام بنتا، وہ بات کرتا۔ جہاں بات سے نہ بنتا، وہاں وہ وہی کرتا جو تاریخ کے فاتحین کرتے آئے تھے۔
رفتہ رفتہ وہ امیر حسین کے ساتھ اتحاد بناتا ہے۔ یہ اتحاد طاقتور بھی تھا اور خطرناک بھی۔ دونوں ایک دوسرے پر بھروسہ بھی کرتے تھے، مگر دل کے کسی نہ کسی کونے میں مقابلہ بھی تھا۔ لیکن تیمور کی ذہانت کسی سے چھپی نہ تھی۔ وہ راتوں کو نقشے بناتا، پہاڑوں کے راستے سمجھتا، قلعوں کی کمزوریاں ڈھونڈتا، دریاؤں کے پار جانے کے طریقے سیکھتا۔ وہ صرف جنگجو نہیں تھا— وہ ایک مکمل جنگی دماغ تھا۔
سمرقند…! وہ شہر جسے تیمور اپنے خوابوں کا دل کہتا تھا۔ ایک دن وہ امیر حسین کو پیچھے چھوڑ کر اس شہر کا مالک بنا۔ سمرقند اس کے لیے صرف ایک دارالحکومت نہیں تھا— وہ اس کا تاج تھا، اس کی زندگی، اس کی شان، اس کی پہچان۔ وہ دنیا فتح کرتا گیا مگر سمرقند کی یاد ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی۔ وہ جہاں جاتا، وہاں کے فنکاروں، سنگ تراشوں، معماروں، کاریگروں کو پکڑ کر لاتا اور سمرقند کی گلیوں میں بسا دیتا۔ وہ کہتا تھا: “دنیا کو میں اپنی تلوار سے لوں گا، مگر دنیا میری تہذیب کو سمرقند آکر دیکھے گی۔”
اب اس کی فتوحات شروع ہو جاتی ہیں— وہ برق کی طرح وسط ایشیا کے میدانوں میں پھرتا ہے۔ ایک شہر گرایا، دوسرے کو چھین لیا… ایران، خراسان، ہرات، سب اس کے قدموں میں جھکتے گئے۔ اس نے اپنے دشمنوں کے خلاف نفسیاتی جنگ بھی کی۔ شہر فتح کرتا تو کبھی معافی دے دیتا، کبھی اتنی سختی کرتا کہ اگلے شہر والے بغیر لڑے ہی دروازے کھول دیتے۔
لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے— عثمانی سلطنت!
سلطان بایزید یلدرم، یعنی “بجلی کا کوندہ”، جو اپنے وقت کا سب سے تیز، سب سے بہادر اور سب سے خوفناک سلطان تھا۔ تیمور اور بایزید… یہ دو ایسے آدمی تھے جن کا ٹکراؤ لکھا جا چکا تھا۔ یہ دنیا کے دو بڑے پہاڑ تھے— ایک سمرقند کا آقا، دوسرا اناطولیہ کا شہباز۔
دونوں کی طاقتیں بڑھ رہی تھیں اور دونوں کا غرور بھی۔ دونوں خطے کے شہروں پر اپنا حق سمجھتے تھے۔ ترکمان قبائل، آرتوقی حکمران، اناطولیہ کی چھوٹی ریاستیں— کچھ تیمور کے ساتھ تھیں اور کچھ بایزید کے ساتھ۔
ایک دوسرے کو خطوط کے ذریعے للکارتے۔ تیمور لکھتا:
“تم خود کو سلطان کہتے ہو، مگر سلطان وہ ہوتا ہے جس پر آسمان بھی سایہ کرے۔”
اور بایزید جواب دیتا:
“تم نے بہت زمینیں فتح کیں ہوں گی، مگر عثمانی تلوار کا مزہ ابھی نہیں چکھا۔”
آخر کار وہ دن آ گیا جس دن تاریخ نے سانس روک لی— 1402، جنگِ انقرہ۔
میدان میں دونوں لشکر سامنے آئے۔ بایزید کی فوج منظم، مضبوط، یورپی جنگی طرز سے تربیت یافتہ… دوسری طرف تیمور کا لشکر— وسیع، بے شمار، تجربہ کار، اور سب سے بڑھ کر اُس کے جنگی دماغ کے تابع۔
تیمور نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتا تھا— دشمن کی کمزوری ڈھونڈ کر اس پر ضرب۔
اس نے بایزید کی فوج میں شامل ترکمان قبائل کو اپنی طرف کر لیا، کچھ کو رشوت سے، کچھ کو وعدوں سے۔
جنگ شروع ہوئی۔
دھوپ آگ کی طرح میدان پر برس رہی تھی۔ گھوڑوں کی ٹاپیں زمین کو ہلا رہی تھیں۔
دھوئیں، چیخوں اور تلواروں کی آوازوں میں تاریخ فیصلہ کر رہی تھی کہ کون باقی رہے گا۔
شام تک نتیجہ سامنے تھا—
سلطان بایزید قید ہو چکا تھا۔
عثمانی سلطنت شکست کھا چکی تھی۔
اور تیمور… وہ فاتح کھڑا تھا، اپنے گھوڑے کے اوپر، گرد و غبار میں لپٹا ہوا، مگر آنکھوں میں وہی چمک تھی جو بچپن میں تھی۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی—
تیمور نے پھر بغداد کو لیا، شام کو فتح کیا، اناطولیہ پر اپنے نشان چھوڑے۔ اب وہ بوڑھا ہو چکا تھا مگر خواب ابھی بھی جوان تھے۔ وہ چین اور روس کی طرف جانا چاہتا تھا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ دنیا کے آخری کنارے تک جا کر اپنا پرچم گاڑ دے۔
لیکن 1405 میں، جب وہ سردیوں میں چین کی مہم پر نکلا— موسم نے اسے پکڑ لیا۔ برف کے طوفان، سخت سردی… اور اک دن تیمور بخار میں جلنے لگا۔
اک رات وہ خاموشی سے دنیا چھوڑ گیا۔
اس کے آخری الفاظ بتائے جاتے ہیں:
“دنیا ایک خواب ہے… اور میں وہ ہوں جس نے اسے حقیقت سمجھ کر جیا۔”
اس کی قبر آج بھی سمرقند میں ہے۔
ایک ایسی قبر جسے روسیوں نے کھولا تو کہا کہ تیمور کے جسم سے صرف ہڈیاں نہیں— ایک عجیب سا رعب، ایک عجیب سی سختی ابھی بھی محسوس ہوتی تھی… جیسے وہ مر کر بھی فاتح ہو۔
اور ہاں—
اس کے مرنے کے اگلے ہی دن جرمنوں نے روس پر حملہ کر دیا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ تیمور کی قبر کھولنے سے دنیا پر آفت آئی۔
سچ کیا ہے، جھوٹ کیا ہے— مگر اتنا ضرور ہے کہ تیمور لنگ صرف ایک بادشاہ نہیں تھا… وہ ایک دور تھا۔ ایک ایسا دور جس نے ایشیا کو بدل دیا۔
ایک لنگڑا آدمی…
جس نے دنیا کا رخ موڑ دیا۔
