اسلامی تاریخ میں سلطان نورالدین محمود زنگیؒ (511ھ–569ھ / 1118–1174ء) کا نام عدل، زہد، شجاعت اور امت کی خیرخواہی کے حوالے سے ہمیشہ روشن رہے گا۔ وہ نہ صرف صلیبیوں کے خلاف جہاد کے قائد تھے بلکہ مسلمانوں کے درمیان حقیقی سیاسی، عسکری اور معاشرتی اتحاد کے مضبوط ستون بھی تھے۔

یہ واقعہ تقریباً 560ھ کے اواخر یا 561 ہجری کے آغاز کا ہے، جب حجاز میں شدید قحط پڑا اور مصر و شام میں فتوحات کے بعد مالِ غنیمت وافر تھا۔
عید الاضحٰی سے چالیس دن پہلے:
عید الاضحٰی سے چالیس روز قبل، سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ نے صلیبیوں پر ایک کامیاب حملہ کیا، اور اس میں پورے تیس ہزار (30,000) بکریوں اور دنبوں کا بڑا ریوڑ بطور مالِ غنیمت حاصل ہوا۔
یہ مال اُن کے لیے کوئی فخر یا ذاتی دولت نہ تھا۔ بلکہ وہ اسے غریبوں، مسافروں، مجاہدین اور حرمین کے محتاجوں میں تقسیم کرنے کو اللہ کا حق سمجھتے تھے۔
پہلا خط، قاضیِ دمشق کو:
سلطان نورالدینؒ نے فوراً قاضیِ دمشق کو پیغام بھیجا:
“ان جانوروں کو وصول کریں اور اہلِ شام میں تقسیم کر دیں۔”
قاضی نے جواب دیا:
“اہلِ دمشق کے پاس مال وافر مقدار میں موجود ہے۔ بلکہ ہم آپ کو مزید دس ہزار (10,000) بھیجتے ہیں۔”
یوں تعداد بڑھ کر چالیس ہزار (40,000) تک جا پہنچی۔
یہ اس دور کی علامت تھی:
مسلمان ایک جگہ سے ملنے والی نعمت دوسری جگہ بھیجنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔
دوسرا خط، قاضیِ مصر کو:
سلطان نورالدینؒ نے وہی پیغام قاضیِ مصر کو بھی پہنچایا۔ مصر اُس زمانے میں فاطمی خلافت سے سنی ایوبی دور کی طرف منتقل ہو رہا تھا، اور سلطان نورالدین زنگیؒ ہی نے بعد میں صلاح الدین ایوبیؒ کو مصر بھیجا تھا۔
قاضیِ مصر نے جواب دیا:
“مصر میں جانور زیادہ ہیں، ہم آپ کو تیس ہزار (30,000) مزید جانور دیتے ہیں، اور ساتھ غلہ، گیہوں، جو اور کپڑے بھی بھیجتے ہیں۔”
اب جانوروں کی کل تعداد ستر ہزار (70,000) ہو گئی۔ دوستو یہ وہی مصر تھا جو آئندہ چند برس بعد صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں پوری صلیبی طاقت کو توڑنے میں مرکزی کردار بننے والا تھا۔
تیسرا خط ،حجاز کے علماء کو:
تیسرا خط سلطان نورالدین نے حجاز (مکہ و مدینہ) کے علماء کو بھیجا، وہ خط جو پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے۔
علماء نے جواب لکھا:
“جو کچھ بھیج سکتے ہو، سب بھیجو…یہاں لوگ بھوک سے ہلاکت کے قریب ہیں،
بارش رک گئی ہے، اناج ختم ہو چکا ہے، اور فقر سب پر غالب آ گیا ہے۔”
یہ وہ دور ہے جب حجاز میں بارہا شدید قحط پڑتا تھا۔ محفوظ ذخائر نہ تھے، نہ آبادی زیادہ تھی، نہ معاشی وسائل۔
جب سلطان نورالدین زنگیؒ نے یہ درد بھرا پیغام پڑھا تو فوراً حکم دیا:
“سب کچھ حجاز بھیج دو… اور میری طرف سے مزید خرچ بھی شامل کر دو۔”
پھر:
ستر ہزار جانور،غلے کے بڑے بڑے ذخائر، کپڑے، خوراک، پرانا خشک کیا ہوا لحم (لحمِ مقدد)، حجّاجِ کرام کے لیے راشن سب کچھ مکہ اور مدینہ بھیج دیا گیا۔
اہلِ حجاز سیر ہو گئے، فقراء حجّاج کو کھانا ملا، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں ذخیرہ بھرا گیا، اور قحط کے مہینے آسانی سے گزرے۔
صرف یہ ہی نہیں…
اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کبھی حجاز میں قحط آتا، تو صومالیہ، اریتیریا، اور مسلمان افریقی ساحلوں سے جہاز بھاری بھرکم سامان لیکر حرمین کی طرف آتے تھے۔
یہ جہاز:غلہ، کھجوریں جو، کپڑے، بکریاں اور بھیڑیں لے کر بلا معاوضہ پہنچتے تھے۔ نہ پاسپورٹ، نہ ویزا، نہ قومیت صرف امتِ واحدہ کا تصور!
یہ سب کچھ سلطان نورالدین زنگیؒ سے بہت پہلے بھی ہوتا رہا، اور ان کے بعد بھی خلافتِ عثمانیہ نے یہی سلسلہ جاری رکھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
آج امت قومیتوں میں بٹی ہوئی ہے، ملک سرحدوں میں قید، دلوں سے وہ الفت اور بھائی چارہ رخصت ہو چکا ہے، حالانکہ اللہ نے فرمایا:
{إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ}
(الأنبیاء: 92)
“یہ تمہاری اُمت ایک ہی اُمت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔”
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین!
